5 ستمبر، 2026، 8:43 PM

مہر خبررساں ایجنسی کی خصوصی رپورٹ

مدینہ سے قم تک؛ حضرت فاطمہ معصومہؑ کی تاریخی آمد کی داستان

مدینہ سے قم تک؛ حضرت فاطمہ معصومہؑ کی تاریخی آمد کی داستان

حضرت فاطمہ معصومہؑ کی قم آمد محض مدینہ سے شروع ہونے والے ایک سفر کا اختتام نہیں تھا، بلکہ یہ اس شہر کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے ایک عظیم مرکز کی بنیاد تھی۔

مہر خبررساں ایجنسی؛ ثقافتی ڈیسک: کریمۂ اہل بیتؑ کے بارے میں لکھنے اور بولنے کے لیے ایسے الفاظ درکار ہیں جو صرف ذہن سے نہ نکلیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے پھوٹیں۔ یہ وہ داستان ہے جو صدیوں سے قم کی خاک کی یادداشت میں نقش ہے اور آج بھی اس خاتون کی آمد کی خوشبو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جس کے قدموں نے ایک شہر کی تقدیر بدل دی۔

صحرا کی تیز اور گرم ہوا مہمل (کجاوے) کے پردوں کو ہلا رہی تھی اور قافلے والے اپنے ہاتھوں سے انہیں مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ قم کے قریب بیابانوں میں محض ایک معمول کا سفر جاری نہیں تھا؛ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس شہر کی زمین صدیوں سے اس خاتون کے قدموں کی منتظر تھی اور اپنی سانسیں روکے بیٹھی تھی۔

حضرت معصومہؑ اس کجاوے میں محض ایک بیمار مسافر نہیں تھیں؛ وہ اپنے ساتھ مدینے کی پوری تشنگی، اپنے بھائی کی تمام غربت اور فاطمی عصمت و پاکیزگی کی پوری میراث لیے ہوئے تھیں۔

جب اونٹوں کا قافلہ قم کے دروازوں کے قریب پہنچا تو یوں لگا جیسے شہر کی فضا بھی بدل گئی ہو۔ آلِ سعد کے وہ افراد، جو مدینے کے اس چاند کی آمد سے باخبر ہو چکے تھے، بے قراری اور آنکھوں میں آنسو لیے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔

لیکن اصل منظر ’’بیت النور‘‘ کی خلوت میں رقم ہوا۔ جب یہ عظیم خاتون کجاوے سے اتریں اور ان کی نگاہ قم کی اس خاک پر پڑی، اسی خاک پر جس کے بارے میں ان کے والد گرامی، حضرت امام موسیٰ کاظمؑ، بشارت دے چکے تھے اور جو اب خاندانِ امامت کی ایک بیٹی کے لیے پناہ گاہ بننے والی تھی۔

ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے خاتون اپنے تھکے ہوئے کندھوں پر رسالت کے بوجھ اور حقیقتِ امامت کی حفاظت کی ذمہ داری محسوس کر رہی ہوں۔

وہ اس شہر میں صرف ایک پُرسکون گھر میں قیام کرنے کے لیے نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ ایسے حرم کی بنیاد رکھنے آئی تھیں جو قیامت تک بے کسوں اور بے سہاروں کی پناہ گاہ بنا رہے۔

جس دن اہل قم نے اس خاتون کے وقار اور عظمت کا نظارہ کیا، شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے درمیان کتنا قیمتی گوہر جلوہ فگن ہو چکا ہے۔

وہ ایسی خاتون تھیں کہ بیماری کی شدید تکلیف کے باوجود ان کی نگاہ قم کے آسمان پر تھی؛ وہی آسمان جو ہمیشہ کے لیے شیعیانِ اہل بیتؑ کی اُمیدوں کا سایہ بننے والا تھا۔

ان لمحات میں وہ صرف امام موسیٰ کاظمؑ کی بیٹی نہیں تھیں، بلکہ تاریخ بھر کے ان تمام گم گشتگان کے لیے ایک ماں کا درجہ رکھتی تھیں جو رضائے الٰہی کی تلاش میں ان کے آستانے سے وابستہ ہونے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

قم بھی حضرت معصومہؑ کی آمد سے ایک سادہ شہر سے بڑھ کر ایمان، معرفت اور علومِ اہل بیتؑ کی نشر و اشاعت کا مرکز بن گیا۔

حضرت معصومہؑ؛ وہ خاتون ہیں جن کی شفاعت تمام شیعیان کے لیے ہے

حوزۂ علمیہ قم کے ممتاز استاد نے مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حضرت فاطمہ معصومہؑ کے مقام و مرتبے کی وضاحت کی اور انہیں تمام محبانِ اہل بیتؑ کے لیے وسیع فیض کا واسطہ قرار دیا۔

آیت اللہ سید محمد مہدی میرباقری نے کہا کہ حضرت معصومہؑ کی شفاعت کسی خاص گروہ یا محدود دائرے تک مختص نہیں ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ ان کی شفاعت کے ذریعے تمام شیعیان جنت میں داخل ہوں گے اور یہ امر اس عظیم مقامِ شفاعت کی نشاندہی کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم خاتون کو عطا فرمایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت معصومہؑ تمام محبانِ اہل بیتؑ کے لیے وسیع فیض کا واسطہ ہیں اور ان کی شخصیت، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا ایک جلوہ شمار ہوتی ہے۔

استادِ اخلاق نے مزید کہا کہ حضرت معصومہؑ کا زیارت نامہ ایک معصوم امامؑ کی جانب سے نقل ہوا ہے اور یہ ان کے بلند مرتبۂ عصمت و طہارت کی عکاسی کرتا ہے۔ زائر درحقیقت کسی عام شخصیت کی زیارت کے لیے نہیں جاتا، بلکہ اس ولایت کی ایک حقیقت کی زیارت کرتا ہے جو اس عظیم خاتون کے وجود میں جلوہ گر ہوئی ہے۔

استاد میرباقری نے حضرت معصومہؑ کی قم میں موجودگی اور عصرِ ظہور کے لیے آمادگی کے درمیان گہرے تعلق کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم خاتون کا قم میں قیام اس بات کا سبب بنا کہ یہ شہر حرمِ اہل بیتؑ اور خالص دینی علوم کی نشر و اشاعت کا مرکز بن گیا؛ یہ ایسی تحریک تھی جو حضرت ولی عصرؑ کے عالمی انقلاب کے لیے فکری اور معرفتی آمادگی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حضرت معصومہؑ کا زائر یہ بات جان لے کہ وہ ایسی شخصیت کی زیارت کے لیے جا رہا ہے جو خدا اور اولیائے الٰہی کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ ان کی زیارت محض ایک ظاہری سفر نہیں، بلکہ انسان کے دل میں توحیدی معرفت کے دریچے کھولنے کا سفر ہے۔

News ID 1941152

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha